
کانگریس نے ہندوستان اور 27 ممالک والے یوروپی یونین کے درمیان ’فری ٹریڈ ایگریمنٹ‘ (ایف ٹی اے) سے متعلق مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس نے اس معاہدہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیرف میں کی گئی تخفیف کا ہندوستان کے تجارتی خسارہ پر پڑنے والے اثرات کی نگرانی لازمی امر ہے۔ پارٹی جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بدھ کے روز کہا کہ ’’کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانیزم (سی بی اے ایم) سے ہندوستان کے الیومنیم اور اسٹیل مینوفیکچررس کو چھوٹ دلانے میں مودی حکومت کی ناکامی، ایف ٹی اے سے متعلق کانگریس کی اہم فکروں میں سے ایک ہے۔‘‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں جئے رام رمیش نے لکھا ہے کہ ’’ہندوستان اور 27 ممالک والے یوروپی یونین کے درمیان ایف ٹی اے پر بات چیت پہلی مرتبہ جون 2007 میں شروع ہوئی تھی۔ بات چیت کے 16 دور ہوئے، لیکن کئی اہم ایشوز پر اتفاق رائے نہ بن پانے کے سبب مئی 2013 میں انھیں ملتوی کر دیا گیا۔ اس کے بعد جون 2022 تک ایف ٹی اے پر بات چیت ملتوی رہی، جب اسے پھر سے شروع کیا گیا۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’یہ کثیر مشتہر ایف ٹی اے اب تک کسی بھی تجارتی شراکت دار کو ہندوستان کے ذریعہ دیا گیا سب سے بڑی تجارتی ڈھیل یا نرمی ہے (یوروپی یونین سے ہندوستان میں آنے والے 96 فیصد سے زیادہ برآمدات پر ٹیرف میں تخفیف یا راحت)۔ اس سے ہندوستان کے یوروپی یونین سے درآمد کے دو گنا ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہندوستان کے تجارتی خسارے پر پڑنے والے اثر پر سخت نگرانی رکھنا ضروری ہوگا۔‘‘